مکتوب سوہنا سائیں ۱: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


بخدمت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم مجدد منور ماۃ اربعۃ عشر قطب الارشاد حضرت مرشدنا وسیدنا و سندنا ووسیلتنا فی الدارین دام الطافکم علینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

ہزار بار قدم بوسی و ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض من باد۔ دست بستہ با ادب عرض کہ تین سال پہلے کوئٹہ آنا ہوا تھا کسی مرتبہ کپڑا وغیرہ نہیں خریدا۔ گذشتہ دو سال سے یہ صورتحال وقوع پذیر ہوئی کہ شیطان نے کپڑا خریدنے کے لیے مائل کر لیا۔ ہر ایک نے شوق کے مطابق کسی نے کم کسی نے زیادہ کپڑا خریدا، اس عاجز سے بھی یہی غلطی و بے ادبی سرزد ہوئی، اس سال ارادہ یہ تھا کہ کپڑا نہیں خریدیں گے، اہلیہ کو بھی یہی بتایا اس نے بھی یہی کہا کہ نہیں خریدیں گے، یہاں آنے کے بعد فقراء کا سابق دستور جاری رہا، کسی نے زیادہ کسی نے کم بہرحال کپڑا خریدا ہے اور کچھ خرید رہے ہیں۔ گو عاجز اپنی بات پر اٹل ہے لیکن چونکہ اکثر فقراء نے کپڑے خریدے ہیں اہلیہ نے بھی مجھے کہا کہ دوسروں نے کپڑے خریدے ہیں مجھے بھی کپڑوں کا ایک جوڑا خرید کر دو، اس سلسلہ میں عاجز کی گذارش ہے کہ اس بارے میں حضور کی قلبی رضا ہو جو ارشاد فرماویں اللہ تعالیٰ توفیق فرمائے اس پر عمل کیا جائے، کپڑا خرید کرنا کوئی فرض کام نہیں ہے، لاڑکانہ میں بھی کپڑے ملتے ہیں گو یہاں پر کسی قدر کپڑا سستا ہے، جس بات میں حضور کی رضا ہوگی اسی میں اس عاجز خواہ اہلیہ کے لئے عین سعادت ہو گی، انشاء اللہ تعالیٰ اس میں اہلیہ کے لئے بھی بار خاطر نہیں ہوگا۔

زیادہ ادب والسلام

عاجز اللہ بخش سگ دربار معلیٰ غفاری


(نوٹ: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے اس خط کے جواب میں اسی کاغذ پر درج ذیل جواب حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا:)

جامها خریدن برائے پوشیدنی و تجارت جائز است۔ و از منجانب برائے شما بلا توقف اجازتست۔ ہر آنچه کرده یا خواهی کردن۔ وآنچه میکنی باشد اجازت۔

(پہننے خواہ بیچنے کے لئے کپڑے خرید کرنا جائز ہے، ہماری طرف سے بلاتوقف آپ کو اجازت ہے، جو کچھ آپ نے کیا یا جو کر رہے ہو یا جو کرو گے میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *