مکتوب پیر مٹھا ۷: بنام جناب شیر محمد صاحب

مکتوب شریف حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی مجددی (م ۱۹۶۴) المعروف پیر مٹھا قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے مرید جناب شیر محمد صاحب کی طرف لکھا۔

حوالہ: جماعت اصلاح المسلمین، پاکستان

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

بخدمت مشفقی میاں شیر محمد سلمہ ربہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کے خط پڑھنے سے بہت فرحت حاصل ہوئی۔ عزیزا اسباب ترقئ باطن یہی ہیں رابطۂ شیخ اور ترک ماسوی اللہ اور ترک موالات اور غیر کی دوستی، حسد، حقد اور بغض کینہ سے سینہ کو صاف رکھنا اور عداوت، کبر اور ریا، عجب سے پرہیز کرنا اور دل کو محبت ایزد تبارک و تعالیٰ سے مملو رکھنا اور معرفت سے معمور رکھنا۔ حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ترک دنیا شہوت است ہوس پارسائی نہ ترک جامہ و بس

یہ شمردہ باتیں سالک کے لئے سخت مہلک ہیں۔ کما امکن تقویٰ پر استقامت کرنا ایک وجوبی امر ہے۔ قولہ تعالیٰ ”ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم“، ”تزودوا فان خیر الزاد التقویٰ“ ہے۔ و اتباع الشریعت علیٰ صاحبھا افضل الصلٰوت و اکمل التحیات پر حریص ہونا کما قال سعدی رحمۃ اللہ علیہ

خلافِ پیمبر کسے رہ گزید
کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید

محال است سعدی کہ راہِ صفا
تواں رفتن جز درپئے مصطفیٰ

اور پندار وجود سے سخت برکنار رہنا اور اپنے کو لاشئی سمجھنا جیسا کہ حضرت جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

بیا جامی ز بود خویش پرہیز ز پندار وجود خویش پرہیز

اور حضرت سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔ بیت

مرا پیر دانائے روشن شہاب
دو آندر ز فرمود بر روئے آب

یکے آنکہ بر خویش خود بیں مباش
دگر آنکہ بر غیر بدبین مباش

حضرت قبلہ شمس العارفین مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ اپنی تالیفات میں لکھتے ہیں کہ یہ دو نصیحتیں حاصل اور خلاصہ تمامی سلوک کی ہیں اور ان دونوں موعظت میں دریا در کوزہ مندرجہ ہے۔ اور ہمارے حضرت قبلہ عالم سید الاتقیاء ادام اللہ فیوضھم فرمایا کرتے تھے

خودی تکبر ترے گھر مٹھے سید ملا مصر
وڈا وڈا آپ کہانون وڈا گیونے وسر

یہ بات لاریب فیہ ہے۔ سالک اگر لحاظ امراض باطنی کا نہ رکھے اور مطلق بے غوری اور لایعنی کرے تو بہر کیف ابواب ترقی کے ان پر مفتوح نہیں ہوسکتے اور نہ وہ منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے۔ اور سچ پوچھو تو محبت پیر کی سالک کے لئے ایک بڑی اکسیر ہے، جیسا کہ ایک بیمار ایسی بیماری اور مرض میں مبتلا ہووے کہ جس کو جان تلف ہونے کا سخت اندیشہ ہووے اور طبیب اس کو ایسی دوا بتلاوے جو دوا کی جگہ دوا اور غذا کی جگہ غذا تھوڑے دن استعمال کرنے اور بن پیسہ شفا ہوجاوے۔ بتلاؤ اس بیمار کو کتنی خوشی پہنچے گی اور اس مریض کا دل کیسا سرور سے مالا مال ہوجاویگا۔ محبت کا بھی ایسا ایک نسخہ بڑا مجرب اور سریع الاثر سمجھو اور محبت بے تصور حاصل نہیں ہوسکتی۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ جس کو اپنے شیخ کے ساتھ رابطہ ہوگیا شیطان ان کو لغزش نہیں دے سکتا اور شیطان کا قابو اس پر نہیں ہوسکتا۔ اور بے رابطہ ذکر والے پر ممکن ہے کہ شیطان ان کو بہکا دیوے نعوذ باللہ منھا۔ حاصل الکلام تصور شیخ اصل الاصول ہے اور طالب کے لئے اعلیٰ وظیفہ ہے۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

گر تو ذاتِ پیر را کردی قبول
ہم خدا در ذاتش آمد ہم رسول

تمام اہل ذکر کو السلام علیکم از جانب ایں فقیر و منجانب عالم اندرونی اینجائی بجانب عالم اندرونی آنجائی اہل ذکر السلام علیکم۔ ہر ایک بی بی اہل ذکر کو معروض کیا جاتا ہے کہ ذکر میں اور مراقبہ میں سستی ہرگز نہ کیا کریں اور تصور کا خیال ہر وقت لگا رہے۔ جس شیخ سے تعلیم سلوک کی ہووے اس کا تصور اعلیٰ اور افضل اور نہایت مفید ہے۔ غصہ اور رنج کی عادت چھوڑ دیویں۔ دنیا کی محبت سے دل کو ٹھنڈا کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں دل کو گرم کرنا چاہئے۔ دنیا چار دنوں کی کھیتی ہے، آج وقت ہے کچھ کرلو۔ اپنے مردوں کو بھی راضی رکھو۔

لاشئی فقیر محمد عبدالغفار فضلی

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *